بچوں کی نفسیات

 04.09.2024

پاکستانی نظام تعلیم نے تو بچوں اور نوجوانوں کا بیڑہ غرق کیا ہی کیا ہے، کوئی کثر بچوں کی ماؤں نے بھی نہیں چھوڑی۔

مانو انسان کے بچے نہیں یہ تو ریس میں دوڑنے والے گھوڑے ہیں۔ نمبروں کی ریس، پوزیشنز کی ریس.... اس سے کم تو بات منہ سے نکالتی ہی نہیں ہیں۔

ہر بچے کا 🧠 آئی کیو لیول دوسرے بچے سے مختلف ہوتا ہے۔ ہر ایک کی یاد کرنے کی ابیلیٹی، سمجھنے کی کوشش، سمجھ کر یاد رکھنے کی طاقت دوسرے سے جدا ہے۔

آپ یا کسی دوسرے کا بچہ/ بچی تعلیمی میدان میں اچھا ہے، سبق کو اچھا یاد کرتا ہے، امتحانات میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتا ہے۔ 

 اور آپ کا بچہ/بچی اتنا اچھا نہیں ہے تو یار کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ کیوں اپنے بچے کا موازنہ دوسرے بچے سے کرتے ہیں۔ کیوں اس کو پریشرآئیز کرتے ہیں، اپنے سخت لہجے سے کیوں اس کی عزت نفس کو مجروح کرتے ہیں۔

ایک بچی کی امی میرے پاس آئیں اور کہنے لگیں. میں اس کا کیا کروں؟

میں نے کہا: کچھ بھی نہ کریں۔ یہ جیسی ہے، اس کو ویسی ہی رہنے دیں۔ کتنا دباو ڈالے گیں آپ اس پر؟ 

وہ مجھے انتہائی مایوس اور خفگی بھری نگاہوں سے دیکھتی رہیں.،

میں نے پوچھا، بتائیں کیا کروں.... نہیں سبق یاد رکھ پاتی یہ۔ تو کیا اس کا دماغ کھول کر کتابیں اندر فٹ کر دوں؟ 

وہ سخت نالاں سی ہو کر غصے سے تن فن کرتیں چلی گئیں۔ 

اپنی اولاد کی ذہنی حالت کو قبول کرنے کی کوشش کریں۔ آئی کیو لیول لو ہے یا ہائی.... وہ آپ کی اولاد ہے۔ ایک انسان کی اولاد۔ اسے مشین نہ بنائیں۔ 

ایک میدان میں کارکردگی اچھی نہیں تو یقیناََ کسی دوسرے میدان میں کامیابی کے جھنڈے آپ کی اولاد ہی گاڑے گی۔ اور اسے یہ یقین، یہ اعتماد صرف آپ نے دینا ہے۔ اسے کم مائیگی کے احساس کمتری سے آپ نے نکالنا ہے۔ اسے یہ احساس دلانا ہے کہ آپ اچھے مارکس لاتے ہو یا نہیں، آپ کے لیے ہمارے پیار میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔ ہمیں یقین ہے آپ پڑھنے کی، سمجھنے کی کوشش تو کرتے ہو، لیکن جلد بھول جاتے ہو۔ ہم آپ کی کوشش کی قدر کرتے ہیں۔ 

یہ اور اس جیسے خون کو جوش دلانے والے ہزاروں جملے..... یہ آپ کے بچے کو نہ صرف اچھی اولاد بنائیں گے بلکہ ان کی آنے والے وقتوں کی کامیابی سے آپ کا سر فخرسے بلند کر دیں گے۔ 


اقراءاسماعیل

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

رات کو جلدی سونے کے فائدے

رات کو جلدی سونے کے فائدے اور دیر تک جاگنے کے نقصانات

محنت