رات کو جلد سونا۔
قدرت کے اصولوں کے مخالف چلو گے تو منہ کی کھانی پڑے گی۔ ہم سب جانتے ہیں کہ دن کام کے لیے بنایا گیا ہے اور رات آرام کرنے کے لیے ہوتی ہے۔ مگر دیکھا یہ جاتا ہے نوجوانوں کی اکثریت رات دیر تک جاگنے کو اچھا سمجھتی ہے اور اپنی گفتگو میں بڑے فخر سے بتانے کا ہنر رکھتی ہے۔ دیر رات تک جاگنے سے ہماری نیند پوری نہیں ہوتی اور نیند مکمل نہ ہو تو دن بھر سستی، کاہلی، بے چینی اور ہڈ حرامی طبیعت پر چھائی رہتی ہے۔ روٹین کے کام ہی ٹھیک ٹھاک متاثر ہو جاتے ہیں ایسے میں کچھ نیا، کچھ انوکھا کیسے ہو پائے گا۔ ڈپریشن کے شکار افراد اکثر بے خوابی کی شکایت کرتے نظر آتے ہیں۔ یاد رکھیں یہ بے خوابی اک دم سے نہیں لگ جاتی، راتوں کو دیر تک جاگنے کی وجہ سے زہر کی طرح دھیرے دھیرے ہماری نیند کھا جاتی ہے۔ چڑچڑاپن کسی ان دیکھے آسیب کی طرح ہمیں چمٹ جاتا ہے۔ ہم جو کبھی خوب صورت مسکراہٹیں بکھیرتے تھے، خوش اخلاقی ہماری طبیعت کا خاصہ تھی۔ پھر وہ اداسی و ویرانی چھاتی ہے کہ دیکھنے والوں کو یوں معلوم ہوتا ہے مانو ہنستے بستے انسان پر خزاں کا موسم آ گیا ہے۔ ہماری زندگی سے ساری برکتیں ختم ہو جاتیں...