اشاعتیں

اکتوبر, 2024 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

رات کو جلد سونا۔

  قدرت کے اصولوں کے مخالف چلو گے تو منہ کی کھانی پڑے گی۔ ہم سب جانتے ہیں کہ دن کام کے لیے بنایا گیا ہے اور رات آرام کرنے کے لیے ہوتی ہے۔ مگر دیکھا یہ جاتا ہے نوجوانوں کی اکثریت رات دیر تک جاگنے کو اچھا سمجھتی ہے اور اپنی گفتگو میں بڑے فخر سے بتانے کا ہنر رکھتی ہے۔   دیر رات تک جاگنے سے ہماری نیند پوری نہیں ہوتی اور نیند مکمل نہ ہو تو دن بھر سستی، کاہلی، بے چینی اور ہڈ حرامی طبیعت پر چھائی رہتی ہے۔ روٹین کے کام ہی ٹھیک ٹھاک متاثر ہو جاتے ہیں ایسے میں کچھ نیا، کچھ انوکھا کیسے ہو پائے گا۔  ڈپریشن کے شکار افراد اکثر بے خوابی کی شکایت کرتے نظر آتے ہیں۔ یاد رکھیں یہ بے خوابی اک دم سے نہیں لگ جاتی، راتوں کو دیر تک جاگنے کی وجہ سے زہر کی طرح دھیرے دھیرے ہماری نیند کھا جاتی ہے۔  چڑچڑاپن کسی ان دیکھے آسیب کی طرح ہمیں چمٹ جاتا ہے۔ ہم جو کبھی خوب صورت مسکراہٹیں بکھیرتے تھے، خوش اخلاقی ہماری طبیعت کا خاصہ تھی۔ پھر وہ اداسی و ویرانی چھاتی ہے کہ دیکھنے والوں کو یوں معلوم ہوتا ہے مانو ہنستے بستے انسان پر خزاں کا موسم آ گیا ہے۔   ہماری زندگی سے ساری برکتیں ختم ہو جاتیں...

یقین کامل

  ❤️ صبح کی روشنی رات کی سیاہی  کو مٹا دیتی ہے۔ انسان نیند کے سکون کے بعد چاک و چوبند بیدار ہوتا ہے۔ اللہ کی عبادت کرتا ہے۔ اس کا دیا رزق کھاتا ہے۔ دن بھر کے کام کرنے کی انرجی کو استعمال کرتا ہے۔ وہ اللہ تبارک تعالیٰ پر کامل یقین رکھتا ہے۔ اللہ اس کے یقین کی لاج رکھتا ہے اور غیب کے خزانوں سے ڈھیروں عطا فرماتا ہے۔ بس یقین کامل شرط ہے۔❣️ 

محنت

  عنوان:  محنت آپ کب تک اپنی ناکامیوں کا رونا روتے رہیں گے۔ کب تک دوسروں کی کامیابی کی کہانیاں پڑھ پڑھ کر ٹھنڈی آہیں بھرتے رہیں گے۔ کیا ساری زندگی آپ دل ہی دل میں سوچنا چاہتے ہیں کہ ہم بھی ایک دن ضرور کامیاب ہوں گے۔۔۔۔۔ کیا آپ کو لگتا ہے کہ وہ ایک دن اچانک آ جائے گا؟؟؟ بالکل نہیں......! جو آج کامیاب ہیں وہ سالوں سے یا مہینوں سے محنت کر رہے ہیں کتنی ہی راتیں جاگ کر، کتنے ہی دنوں کا سکون برباد کر کے۔ اپنے آرام کو تیاگ کر محنت کرتے ہیں۔ قدرت کا اصول ہے۔ جو محنت کرتا ہے وہ پھل پاتا ہے اس کے بر عکس جو سوتا ہے وہ کھوتا ہے۔ ( کھوتے سے مراد کچھ کھو دینے والا ہے۔ دوسرا کھوتا نا سمجھ لیجیے گا) آپ جو کام کر سکتے ہیں آپ اس میں خوب محنت کریں۔ کم از کم لگاتار تین سے چار ماہ کے لیے اپنا آپ بھلا دیں۔ دن رات ایک کر کے اپنی سکل پالش کریں۔ محنت کرنے والے کبھی نہ کبھی کامیاب ہو ہی جاتے ہیں۔ یاد رکھئے! جو کام کرتا ہے، اسی سے غلطیاں ہوتیں ہیں اور جس سے غلطیاں ہوتیں ہیں وہی سیکھتا ہے۔ آپ غلطیاں نہیں کریں گے تو سیکھیں گے کیسے۔۔۔۔۔؟ ذرا نہیں پورا سوچیے۔ آپ آج ناکام ہیں تو صرف اپنے لیے ہیں۔ کسی کو کچھ ...

رات کو جلدی سونے کے فائدے

 رات کو جلدی سونا نہ صرف جسمانی صحت بلکہ ذہنی سکون کے لیے بھی ضروری ہے کیونکہ ہم وقت پر سوتے ہیں تو ہمارا جسم قدرتی حیاتیاتی گھڑی کے مطابق چلتا ہے، جسے "سرکیڈین ردھم" کہا جاتا ہے۔ یہ ردھم جسم میں ہارمونز، جیسے میلاٹونن، کی مقدار کو متوازن رکھتا ہے جو نیند کی گہرائی اور معیار کو بہتر بناتا ہے۔  جلدی سونے سے یادداشت میں بہتری آتی ہے اور دماغی کارکردگی زیادہ مؤثر ہوتی ہے، کیونکہ نیند کے دوران دماغ معلومات کو منظم کرتا اور یادوں کو محفوظ کرتا ہے۔ مزید یہ کہ جلد سونے سے سٹریس ہارمونز کی سطح کم ہوتی ہے، جس سے دل کی بیماریوں اور ہائی بلڈ پریشر کا خطرہ کم ہو جاتا ہے۔ یہ عادت آپ کو دن کے دوران زیادہ متحرک اور خوشگوار محسوس کرنے میں بھی مدد دیتی ہے۔ جس کا مجموعی اثر آپ کی طرزِ زندگی پر مثبت پڑتا ہے۔ رات کو جلد سونے سے جسم کو مناسب آرام ملتا ہے جس سے دماغی اور جسمانی کارکردگی بہتر ہوتی ہے۔ جلدی سونے سے نیند کا معیار بہتر ہوتا ہے اور صبح جلد اٹھنے میں مدد ملتی ہے، جو دن بھر کی توانائی بہتر طور پر سر انجام دینے میں مدد کرتا ہے۔ اس کے علاوہ، جلدی سونے سے دل کی صحت بہتر ہوتی ہے، وزن کنٹرول ...

موٹیویشنل باتیں

 زندگی صرف سوچتے رہنے سے نہیں بدلے گی۔ اگر آپ کچھ کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو ہمت کرنی پڑے گی۔ عمل کرنا پڑے گا۔ وزن کم کرنا چاہتے ہیں تو ورزش کیجیے۔ ڈائٹ پلان بنائیے، اس پر عمل درآمد کیجیے۔ کمانا چاہتے ہیں تو ذرائع ڈھونڈیں، نہیں مل رہے تو خود مواقع پیدا کیجیے۔ پلیٹ میں رکھ کر کچھ نہیں ملتا۔ عزت و سکون کی زندگی گزارنا چاہتے ہیں تو کمانا سیکھیں۔ انلائن یا آفلائن۔۔۔۔۔ جیسے آپ کو آسانی ہو۔  میں نے بھی اپنے کرئیر کا آغاز آنلائن کانٹینٹ رائٹنگ سے کیا تھا۔ میں روزانہ کی بنیاد پر نہیں لکھتی کیونکہ میری گھریلو مصروفیات بہت زیادہ ہیں۔ کچھ وقت کی کمی اور کچھ اپنی سستی۔ لیکن میں نے کبھی کوشش نہیں چھوڑی۔ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ میں لکھنے بیٹھتی ہوں تو ذہن خالی ہو جاتا ہے۔ تمام الفاظ کہیں کھو جاتے ہیں۔ لیکن میں اس صورت حال سے لڑتی ہوں۔ ہمت نہیں چھوڑتی۔ کیونکہ مجھے معلوم ہے کہ صرف کام کر کے ہی میں کچھ کما سکوں گی۔ آپ بھی ہمت کیجیے۔ لکھنا جانتے ہیں تو لکھیں۔۔۔۔ بولنا جانتے ہیں تو بولنا شروع کر دیں، چاہے وہ وائس اوور یا تقریر۔۔۔۔ جو اپ آسانی سے کر سیکں۔ رنگوں سے کھیلنا جانتے ہیں تو گرافک ڈیزائین...

بیٹیاں، اللہ کی رحمت

 بیٹیاں تو اللہ پاک کی رحمت ہوتی ہیں۔ ان کی کھلکھلاہٹوں سے مکان آباد ہو کر گھر بنتے ہیں۔ اللہ جس عورت سے خوش ہوتا ہے، اسے انعام میں بیٹی سے نوازتا ہے۔ وہ عورت خوش نصیب ہوتی ہے جس کی پہلی اولاد بیٹی ہوتی ہے۔ بیٹیوں کی اچھی تربیت کرنے والے باپ کے بارے میں نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ شخص اور میں (آپ سرکار صلی اللہ علیہ وسلم) جنت میں ایسے ہوں گے جیسے ہاتھ کی دو انگلیاں۔  پھر کیسے لوگ بیٹیوں کی پیدائش پر برے منہ بنالیتے ہیں۔ اول فول بکتے ہیں معاذاللہ۔ اللہ سے ڈرنا چاہیے، کیونکہ یہ خالص رب کی منشا و عطا ہے۔ کسی انسان کے بس میں نہیں کہ وہ بیٹی پیدا کرے یا بیٹا۔ تو جو چیز، جو اختیار انسان کے بس میں ہے ہی نہیں، پھر کیوں اسے الزام دینا اور  اس کو قصور وار جاننا۔ اللہ کی مرضی کو کسی انسان کا اختیار سمجھنا نری جہالت ہے، بے وقوفی ہے، اللہ سے ضد لگانا ہے، سرکشی کرنا ہے، تکبر کرنا ہے۔  ڈرنا چاہیے اللہ سے۔ وہ ساری دنیا کا خالق و مالک ہے۔ جب چاہے، جو چاہے کر دے۔ چاہے تو لمحے میں بادشاہ کو فقیر کر دے اور چاہے تو پل میں فقیر کو بادشاہ بنا دے۔ کسی انسان کے اختیار میں نہیں...

پانی کے فائدے

 پانی قدرت کا بہترین تحفہ ہے۔ یہ زندگی کی علامت ہے۔ انسانی جسم کا 75 فیصد حصہ پانی پر مشتمل ہے۔ اگر روزانہ پانی کی کافی مقدار انسانی جسم کو ملتی رہے تو جسم سے تمام فاسد مادے پیشاب اور پسینے کے ذریعے خارج ہو جاتے ہیں۔ انسان تندرست اور چاک و چوبند رہتا ہے۔ جلد تروتازہ و شاداب ہو جاتی ہے۔ ہر طرح کے کیل مہاسے، خارش اور دانوں سے چھٹکارا پانے کے لیے روزانہ دس سے بارہ گلاس پانی پینا چاہیے۔ پانی نہ صرف خوراک کو بہتر طور پر ہضم کر کے جزو بدن بننے میں مدد دیتا ہے بلکہ یہ وزن کو بھی کنٹرول رکھنے میں نہایت موثر کردار ادا کرتا ہے اور  جسم کو ضروری توانائی فراہم کرتا ہے تا کہ جسمانی کارکردگی شاندار رہے۔   اقراءاسماعیل 19_10_2024

صبح کی سیر

رات کی نیند کے بعد صبح اٹھیں تو جسم و اعصاب پر بھاری پن سا محسوس ہوتا ہے۔ چہرے پر ہلکی سی سوجن، ہاتھ پاوں بھاری محسوس ہوتے ہیں۔  دس سے پندرہ منٹ کی ہلکی پھلکی واک  طبیعت کو ہلکا پھلکا کر دیتی ہے۔ جب ہم چلتے ہیں تو ہمارے جسم کے تمام اعضاء حرکت کرتے ہیں۔ طبیعت کا بوجھل پن دھیرے دھیرے چلنے سے دور ہونے لگتا ہے۔ ورزش کرنے سے پہلے تھوڑی سی واک بطور وارم اپ ہمارے اعضاء کو پرسکون کرتی ہے۔ یہ ہمارے جسم کو ورزش کرنے کے لیے تیار کرتی ہے۔  ضروری نہیں ہے کہ واک کرنے کے لیے کسی کھلی جگہ، پارک وغیرہ میں جایا جائے۔ اپنے گھر کے کمرے میں ایک جگہ پر کھڑے ہو کر بھی بہترین واک کی جا سکتی ہے۔