بیٹیاں، اللہ کی رحمت
بیٹیاں تو اللہ پاک کی رحمت ہوتی ہیں۔ ان کی کھلکھلاہٹوں سے مکان آباد ہو کر گھر بنتے ہیں۔ اللہ جس عورت سے خوش ہوتا ہے، اسے انعام میں بیٹی سے نوازتا ہے۔ وہ عورت خوش نصیب ہوتی ہے جس کی پہلی اولاد بیٹی ہوتی ہے۔ بیٹیوں کی اچھی تربیت کرنے والے باپ کے بارے میں نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ شخص اور میں (آپ سرکار صلی اللہ علیہ وسلم) جنت میں ایسے ہوں گے جیسے ہاتھ کی دو انگلیاں۔
پھر کیسے لوگ بیٹیوں کی پیدائش پر برے منہ بنالیتے ہیں۔ اول فول بکتے ہیں معاذاللہ۔ اللہ سے ڈرنا چاہیے، کیونکہ یہ خالص رب کی منشا و عطا ہے۔ کسی انسان کے بس میں نہیں کہ وہ بیٹی پیدا کرے یا بیٹا۔ تو جو چیز، جو اختیار انسان کے بس میں ہے ہی نہیں، پھر کیوں اسے الزام دینا اور اس کو قصور وار جاننا۔ اللہ کی مرضی کو کسی انسان کا اختیار سمجھنا نری جہالت ہے، بے وقوفی ہے، اللہ سے ضد لگانا ہے، سرکشی کرنا ہے، تکبر کرنا ہے۔
ڈرنا چاہیے اللہ سے۔ وہ ساری دنیا کا خالق و مالک ہے۔ جب چاہے، جو چاہے کر دے۔ چاہے تو لمحے میں بادشاہ کو فقیر کر دے اور چاہے تو پل میں فقیر کو بادشاہ بنا دے۔ کسی انسان کے اختیار میں نہیں کہ وہ اللہ کے اٹل فیصلے اپنی ضد اور انا سے بدل دے۔
انسان دعا کر سکتا ہے، عاجزی و انکساری سے۔ دعا کے بعد اللہ کی ذات پر کامل یقین کہ صرف وہی ہے جو عطا کرنے والا ہے۔ دنیا میں عطا کر دے تو اس کا کرم، آخرت میں عطا فرمانے کے لیے رکھ دے تو اس کی رحمت۔
اللہ ہم سب پر رحم فرمائے۔ آمین
#اقراءاسماعیل
20_10_2024
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں