سیکھتے رہنا زندگی ہے۔
ذات کے سیکھنے کا عمل، ذات کے آگے بڑھتے رہنے کا سفر کبھی نہیں رکنا چاہیے۔ سیکھنے کی کوئی خاص عمر نہیں ہوتی۔ گور تک علم حاصل کرنے کا حکم ہے۔ تکلیف اٹھائیں۔ خود پر جبر کریں۔ خود کو سزا دیں۔ لیکن مشکلات کے سامنے ڈٹ جائیں۔
یاد رکھیے! مشکلات صرف مالی و معاش کی نہیں ہوتیں۔ ان سے پرے.....
کیا ہے جو بنی نوع انسان نہیں کر سکتا۔ اللہ نے ہمیں اشرف المخلوقات بنایا ہے۔ اپنی تمام مخلوقات سے افضل۔
کسی کی بات کو، کسی حادثے کو خود پر سوار نہ کریں۔ ہم اتنے ارذاں نہیں کہ حالات سے اور لوگوں سے ڈر جائیں۔ اپنا سفر روک دیں۔ بلکہ ہم تو اتنے انمول ہیں کہ ہم نے بلندیوں کو چھونا ہے۔ اخلاق کی، اچھائیوں کی، نیکیوں کی، کامیابیوں کی ساتھ عاجزی کے۔
کانٹے تو ہر راہ میں ہوتے ہیں۔ آئیز آن دا پرائز پر رکھ کر لگے رہیں۔ ڈتے رہیں۔ اک دن ناکامی کا خوف دم دبا کر بھاگ جائے گا۔ اور جب ناکامی کا خوف نہیں رہے گا تو سیکھنے کی لگن بڑھے گی۔ کوششیں طوفان خیز ہوں گی تو یقینا کامیابی ہی مقدر ہو گی۔
فی امان اللہ
اقراءمغل
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں